5 اشعار

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

Jab bhi milti hai mujhe ajnabi lagti kyun hai

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے

دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سےسر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے

مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیںاس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے

تجھ سے مل کر بھی نہ تنہائی مٹے گی میریدل میں رہ رہ کے یہی بات کھٹکتی کیوں ہے

مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو مری وحشت کا سبببوئے آوارہ سے پوچھو کہ بھٹکتی کیوں ہے

— شہریار