5 اشعار

ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں

Tere qareeb jo chupke khada hua tha main

ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میںبتاؤں کیسے کہ خود سے ڈرا ہوا تھا میں

جہاں سے آگے کہیں ہم بچھڑنے والے تھےپلٹ کے دیکھا وہیں پر رکا ہوا تھا میں

اجاڑ شہر ہوں اور دیکھنے کے قابل ہوںسنا گیا ہے کہ اک دن بسا ہوا تھا میں

بلا رہی تھی بہت ایک لمبی نیند مجھےنہیں یہ یاد کہ کتنا جگا ہوا تھا میں

فنا سے گزروں تو کچھ آشکار ہو شایدکہ زندگی میں معما بنا ہوا تھا میں

— شہریار