5 اشعار

اس کو کسی کے واسطے بے تاب دیکھتے

Us ko kisi ke waste be-tab dekhte

اس کو کسی کے واسطے بے تاب دیکھتےہم بھی کبھی یہ منظر نایاب دیکھتے

ساحل کی ریت نے ہمیں واپس بلا لیاورنہ ضرور حلقۂ گرداب دیکھتے

بارش کا لطف بند مکانوں میں کچھ نہیںباہر نکلتے گھر سے تو سیلاب دیکھتے

آتی کسی کو راس شہادت حسینؔ کیدنیا میں ہم کسی کو تو سیراب دیکھتے

راتوں کو جاگنے کے سوا اور کیا کیاآنکھیں اگر ملی تھیں کوئی خواب دیکھتے

— شہریار