4 اشعار

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

Tu kahan hai tujh se ik nisbat thi meri zaat ko

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کوکب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو

میرے حصے کی زمیں بنجر تھی میں واقف نہ تھابے سبب الزام میں دیتا رہا برسات کو

کیسی بستی تھی جہاں پر کوئی بھی ایسا نہ تھامنکشف میں جس پہ کرتا اپنے دل کی بات کو

ساری دنیا کے مسائل یوں مجھے درپیش ہیںتیرا غم کافی نہ ہو جیسے گزر اوقات کو

— شہریار