5 اشعار

ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا

Hans raha tha main bahut go waqt woh rone ka tha

ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھاسخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھا

رتجگے تقسیم کرتی پھر رہی ہیں شہر میںشوق جن آنکھوں کو کل تک رات میں سونے کا تھا

اس سفر میں بس مری تنہائی میرے ساتھ تھیہر قدم کیوں خوف مجھ کو بھیڑ میں کھونے کا تھا

ہر بن مو سے درندوں کی صدا آنے لگیکام ہی ایسا بدن میں خواہشیں بونے کا تھا

میں نے جب سے یہ سنا ہے خود سے بھی نادم ہوں میںذکر تجھ ہونٹوں پہ میرے در بدر ہونے کا تھا

— شہریار