5 اشعار

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں

Tujh se bichhde hain to ab kis se milati hai hamein

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیں

مرکز دیدہ و دل تیرا تصور تھا کبھیآج اس بات پہ کتنی ہنسی آتی ہے ہمیں

پھر کہیں خواب و حقیقت کا تصادم ہوگاپھر کوئی منزل بے نام بلاتی ہے ہمیں

دل میں وہ درد نہ آنکھوں میں وہ طغیانی ہےجانے کس سمت یہ دنیا لیے جاتی ہے ہمیں

گردش وقت کا کتنا بڑا احساں ہے کہ آجیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں

— شہریار