4 اشعار

امید سے کم چشم خریدار میں آئے

Umeed se kam chashm-e-kharidaar mein aaye

امید سے کم چشم خریدار میں آئےہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے

سچ خود سے بھی یہ لوگ نہیں بولنے والےاے اہل جنوں تم یہاں بے کار میں آئے

یہ آگ ہوس کی ہے جھلس دے گی اسے بھیسورج سے کہو سایۂ دیوار میں آئے

بڑھتی ہی چلی جاتی ہے تنہائی ہماریکیا سوچ کے ہم وادئ انکار میں آئے

— شہریار