5 اشعار

یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے

Yeh kya hua ke tabiyat sambhalti jaati hai

یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہےترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہے

اس اک افق پہ ابھی تک ہے اعتبار مجھےمگر نگاہ مناظر بدلتی جاتی ہے

چہار سمت سے گھیرا ہے تیز آندھی نےکسی چراغ کی لو پھر بھی جلتی جاتی ہے

میں اپنے جسم کی سرگوشیوں کو سنتا ہوںترے وصال کی ساعت نکلتی جاتی ہے

یہ دیکھو آ گئی میرے زوال کی منزلمیں رک گیا مری پرچھائیں چلتی جاتی ہے

— شہریار