23 اشعار

زوال کی حد

Zawal ki had

بوتل کے اندر کا جننکلے تو اس سے پوچھیں

جینے کا کیا ڈھنگ کریںکن سپنوں سے جنگ کریں

کھولو سوڈا لاؤ گلاسدو آنے کے سیخ کباب

سگریٹ بھی لیتے آناپارک میں کیا وہ آئی تھی

آج بھی کیا شرمائی تھیکیسے کپڑے پہنے تھی

کیا انداز تھا جوڑے کاتم نے اس سے پوچھا تھا

رات جو تم نے سوچا تھافیضؔ کی تازہ نظم پڑھی

اور بیدیؔ کا افسانہلوپ سے کیا حاصل ہوگا

دریا کیا ساحل ہوگابھوک سے جنتا مرتی ہے

پنجابی صوبے کے بعدچین نئی دھمکی دے گا

اندرا جی کے بھاشن میںپنڈت جی کی بات کہاں

شاستری اردو بولتے تھےجن سنگھی کیوں سنتے تھے

آج کسی کی برسی تھیویسٹ انڈیز ہی جیتے گا

تھوڑا سوڈا اور ملاؤکدھر لوٹری ہے بتلاؤ

تم اتنے خاموش ہو کیوںنظم کوئی کہہ ڈالی کیا

تو پھر کیا ہے ہو جائےلیکن شرط ترنم ہے

پنکھے کی اسپیڈ بڑھاؤکٹھمنڈو نیپال میں ہے

سارتر کی بیوی کیسی ہےہم بندر کے پوتے ہیں

میرٹھ سے قینچی بھی لائےلا یعنی ہیں مرگ و زیست

بے معنی ہیں سب الفاظبے حس ہے مخلوق خدا

ہر انساں اک سایہ ہےشادی غم اک دھوکا ہے

دل آنکھیں لب ہاتھ دماغایک وبا کی زد میں ہیں

اپنے زوال کی حد میں ہیں

— شہریار