5 اشعار

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

Zindagi jaisi tawaqqo thi nahin kuch kam hai

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہےہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہےاپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگیدل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے

اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میںکہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ہے

آج بھی ہے تری دوری ہی اداسی کا سببیہ الگ بات کہ پہلی سی نہیں کچھ کم ہے

— شہریار