5 اشعار

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو

Ajeeb saanha mujh par guzar gaya yaaro

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو

ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلاہر ایک زخم مرے دل کا بھر گیا یارو

بھٹک رہی تھی جو کشتی وہ غرق آب ہوئیچڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا یارو

وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسےسنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو

میں جس کو لکھنے کے ارمان میں جیا اب تکورق ورق وہ فسانہ بکھر گیا یارو

— شہریار