7 اشعار

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے

Is nae gham se kināra bhī to ho saktā hai

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے

«اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے» اردو شعرا کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہےعشق پھر ہم کو دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے

آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کامری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے کہ یہ جان لٹا دی جائےاس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے

دل کی بستی سے سر شام جو اٹھا ہے دھواںاچھے موسم کا اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

آپ کو ہم سے محبت بھی تو ہو سکتی ہےاور محبت میں خسارہ بھی تو سکتا ہے

یہ جو پھیلا ہے فلک تک شب ہجراں کا غبارمری وحشت کا نظارہ بھی تو ہو سکتا ہے

ناظر وحید

— اردو شعرا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں