44 اشعار

سسی

Sassī

سسی

«سسی» اردو شعرا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ ہے۔

پُنل اب لوٹنا کیسا؟محبت خانوادے کے حرم میں گڑ گئی اب تو

میرے ہر خواب پہ مٹی کی چادر چڑھ گئی اب تومیرے عشوے میرے غمزے ادائیں مر گئیں اب تو

صدائیں مر گئیں اب توپُنل اب لوٹنا کیسا؟

پُنل صحرا گواہی ہےیہ سانسوں کی طنابوں پر تنا خیمہ گواہی ہے

ہتھیلی کی دراڑوں پر چھپے آنسو گواہی ہیںکہ میں نے انتہا تک انتہا سے تم کو مانگا ہے

شہر بھنبھور کے محلوں کے خستہ غریبوں سےسڑک پر بِچھ گئے دعا کرتے فقیروں سے

یتیموں سے ضعیفوں سے، دلوں کے بادشاہوں سےنیازوں میں، دعاؤں میں صداؤں میں پکارا ہے

اماوس رات میں اُٹھ کر خلاؤں میں پکارا ہےپُنل تم کیوں نہیں آئے؟

پرانی خانقاہوں میں، شہر کے آستانوں پربازاروں مسجدوں میں، مرقدوں میں دیکھ لو جا کر

کہیں تعویز ہیں کہیں دھاگے بندہے ہوں گے کہیں دیوار پہ کچھ خون کے چھینٹے پڑے ہوں گے

کہیں ماتھے گڑے ہوں گے، کہیں گھٹنے چھپے ہوں گےپُنل منظر دُہائی ہے

کہ میں نے بے نشانی سے نشاں تک تم کو مانگا ہےتمہارے کیچ کے رستے پہ میں ہر شام روتی تھی

ہر اک راہگیر کے پیروں کو پکڑ کر التجا کرتیکہ میرا خان لوٹا دو

میرا ایمان لوٹا دوکوئی ہنستا، کوئی روتا، کوئی سِکہ بڑھا دیتا

کوئی تمہارے رستے کی مسافت کا پتہ دیتاوہ سارے لوگ جھوٹے تھے

سبھی پیمان کچے تھےپُنل تم ایک سچے تھے

پُنل تم کیوں نہیں آئے؟پُنل بھنبھور کی گلیاں

وہ کچی اینٹ کی نلیاںجنہوں نے خادماؤں کا کبھی چہرہ نہیں دیکھا

انہوں نے ایک شہزادی کا نوحہ سن لیا آخربھڑک جاتی ہیں وہ ایسے اماوس رات میں جیسے 

کسی خوابوں میں لپٹی ماں کا بچہ جاگ جاتا ہےوہ سرگوشی میں کہتی ہیں کہ؛ دیکھو

بھوک سے اونچا بھی کوئی روگ ہے دل کاسنا کرتے تھے کہ یہ کام ہے بس پیرِ کامل کا

کہ وہ الفت کو مٹی سے بڑا اعجاز کر ڈالےیہ کس گندی نے افشاں زندگی کے راز کر ڈالے

پُنل میں گندی مندی ہو گئی میں یار کی بندیسو میری ذات سے پاکیزگی کا کھوجنا کیسا

پُنل اب لوٹنا کیسا؟خدا کے واسطے مت دو

خدا کے پاس بیٹھی ہورنگین خانۂ کرب و بلا کے پاس بیٹھی ہو

جہاں سے روشنی جیسی دعائیں لوٹ آتی ہیںزمیں سنگلاخ ویرانہ

جہاں پر جانے والے لوٹ کر آتے نہیںلیکن صدائیں لوٹ آتی ہیں

پُنل آواز مت دینا کہ میں اب آواز کی دنیا سے آگے کی کہانی ہوں

میں ان شہروں کی رانی ہوںجہاں میں سوچ کے بستر پہ زلفیں کھول سکتی ہوں

جہاں پر وقت ساکت ہے نگاہِ یار کی صورتجہاں پر عاشقوں کے جسم سے انوار کی صورت

محبت پھوٹ کر اک بے کراں نالے میں رقصاں ہےمگر آواز مت دینا

کہ ہر آواز صدمہ ہےپُنل آواز مت دینا

کہاں اس لامکاں نگری میں ماتم کرنے آئے ہوپُنل واپس چلے جاؤ

یہاں کوئی نہیں رہتا سوائے ریگِ بسمل کےپُنل یہ ریت کے ذرّے

یہ خواہش کے فرشتے ہیںانہیں کیا علم کہ وہ پار تیرے کیچ کے جیسا

یہ اونٹوں کی قطاریںمیرے اشکوں کی قطاریں ہیں

جو میرے باغ کے صحرا کے ٹیلے سے گزرتی ہیں تو میرے ذہن کے سُوکھے کنویں

تک رینگ جاتی ہیںانہیں کیا علم کہ وہ سُوکھا کنواں بھنبھور کے جیسا

یہ ریت کے ٹیلے یہ اعلامِ حقیقت ہیںنہ جانے کتنے احراموں تلے محبت ہے

کہاں اس لامکاں نگری میں ماتم کرنے آئے ہوتمہارے اشک اور نوحے یہاں کچھ کر نہیں سکتے

انہیں کہنا جو کہتے تھے فسانے مر نہیں سکتےانہیں کہنا کہ وہ سسی جو آدم خانزادی تھی

جسے دل نے صدا دی تھی جو اشکوں کی منادی تھیوہ سسی ہجر کی رسی سے لٹکی مر گئی کب سے

طلاقیں لے کے پردیسی سہاگن گھر گئی کب سےیہاں کوئی نہیں رہتا سوائے ریگِ بسمل کے

پُنل واپس چلے جاؤعمران فیروز

— اردو شعرا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں