9 اشعار

کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ

Kuch bachane ke liye umar ganwate hue log

کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ

«کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ» اردو شعرا کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگخرچ ہو جائیں گے یہ خواب کماتے ہوئے لوگ

بھول جاتے ہیں کہ اب یاد نہیں رکھنا مجھےمیرا قصہ مجھے آ آ کے سناتے ہوئے لوگ

اک توقع کا بہر حال بھرم رکھتے ہیںروٹھنے والوں کو ہر بار مناتے ہوئے لوگ

چھوڑ جائیں گے کسی دن یہ بتاتے ہی نہیںیہ بتاتے ہی نہیں اپنا بناتے ہوئے لوگ

تیری دہلیز پہ کچھ پھول نہیں خود کو بھیچھوڑ آتے ہیں ترے شہر سے جاتے ہوئے لوگ

ہر تعلق میں یہی خوف کہ بس اب کے گیاہم فصیلوں کی دراڑوں کو چھپاتے ہوئے لوگ

سو نہیں پائیں گے کمرے میں اندھیرا کر کےجاگتی آنکھ میں منظر کو سلاتے ہوئے لوگ

خوش لباسی بھی ہے پردہ کسی محرومی کاجسم سے روح کے آزار چھپاتے ہوئے لوگ

انفال رفیق

— اردو شعرا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں