کب تک
کلام: فہمیدہ ریاض
کب تک مجھ سے پیار کرو گےکب تک؟
جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گاجب تک میرا رنگ ہے تازہ
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
کب تک مجھ سے پیار کرو گےکب تک؟
جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گاجب تک میرا رنگ ہے تازہ
اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گےآپ گر کر مری آنکھوں سے کدھر جائیں گے
اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جاناںاپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے
اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہےعشق پھر ہم کو دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے
آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کامری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے
پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعدسب سے مرا ہی پوچھے گا وہ شخص میرے بعد
ویرانیاں رہیں گی مرے گھر کے صحن میںکس کو گلے لگائے گا وہ شخص میرے بعد