زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
کلام: باقی صدیقی
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہےرونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیںزیست کو زیست نما کیا دیکھیں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہےرونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیںزیست کو زیست نما کیا دیکھیں
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھولوں پہ نہ جادیکھ سروں پر چلتے ہل
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گاجس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا
تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنامیں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا
کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگخرچ ہو جائیں گے یہ خواب کماتے ہوئے لوگ
بھول جاتے ہیں کہ اب یاد نہیں رکھنا مجھےمیرا قصہ مجھے آ آ کے سناتے ہوئے لوگ