پچھتاوا
خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دیبہشت سے جب اسے نکالا
تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھییہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دیبہشت سے جب اسے نکالا
تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھییہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نےمیرے اشک پونچھ کر
آج مجھ سے یہ کہایوں نہ دل جلاؤ تم
قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیںاک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہے
اک آنسو اس نام کا جو ہم لے نہ سکےاک آنسو اس دعا کا جو پوری نہ ہوئی
میں تو کہتا تھامیری پرستش نہ کر
میری عُریاں ہتھیلی پہ پلکوں کے اندر چھُپی خواہشوں کے ستارے نہ چُنمیری قَسموں میں لپٹے ہوئے وصل وعدوں سے
پُنل اب لوٹنا کیسا؟محبت خانوادے کے حرم میں گڑ گئی اب تو
میرے ہر خواب پہ مٹی کی چادر چڑھ گئی اب تومیرے عشوے میرے غمزے ادائیں مر گئیں اب تو