7 اشعار

ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے

Tera majnun hoon sahra ki qasam hai

ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے

«ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے» ولی محمد ولی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہےطلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے

سراپا ناز ہے تو اے پری رومجھے تیرے سراپا کی قسم ہے

دیا حق حسن بالا دست تجکوںمجھے تجھ سرو بالا کی قسم ہے

کیا تجھ زلف نے جگ کوں دواناتری زلفاں کے سودا کی قسم ہے

دو رنگی ترک کر ہر اک سے مت ملتجھے تجھ قد رعنا کی قسم ہے

کیا تجھ عشق نے عالم کوں مجنوںمجھے تجھ رشک لیلیٰ کی قسم ہے

ولیؔ مشتاق ہے تیری نگہ کامجھے تجھ چشم شہلا کی قسم ہے

— ولی محمد ولی