23 اشعار

امانت

Amanat

امانت

«امانت» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کو

اشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے سینے پہ سر رکھے ہوئے سرسوں

تمہاری کمسنی کھیلی ہے جس کی گود میں برسوںنقوش پا سے اب تک ہر گلی کی مانگ روشن ہے

ابھی تک گود پھیلائے ہوئے ڈیرے کا آنگن ہےرسیلی جامنوں کے پیڑ کی کمزور شاخوں نے

تمہاری انگلیوں کا ہر نشاں محفوظ رکھا ہےلبوں پر جھیل کی گہرائیوں کے ہے بس اک شکوہ

کہ جب سے تم گئے ہو کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچاکنارے جھیل کے وہ پیڑ اب تک منتظر سا ہے

کب آؤ گے یہاں کپڑے اترو گے نہاؤ گےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہے

یہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہے

وہ دیکھو گاؤں کے کھلیانوں میں سویا ہوا جادونشیلی رات کی رانی وہ لو دیتی ہوئی خوشبو

دیوں کا دھیمی دھیمی روشنی دینا دھواں دیناشکستہ جھونپڑوں کا زندگی کو لوریاں دینا

کھنکتی ہیں رسوئی گھر میں الھڑ چوڑیاں اب تکبھرا کی پولیاں لاتی ہیں سر پر بوڑھیاں اب تک

کے کنارے کچی اینٹوں سے بنا مندرسلگتے کنڈوں سے اٹھتی دھوئیں کی ملگجی چادر

ہرے کھیتوں کی مینڈوں پر سلگتے جسم کے سائےلرزتے ہونٹھ گھبرائی ہوئی سانسوں کے افسانے

لچکتی آم کی شاخوں پہ بل کھائے ہوئے جھولےکسی کا بھاگنا یہ کہہ کے کوئی ہے ہمیں چھو لے

یہ دیکھو زندگی کتنی حسیں ہے کتنی بھولی ہےاسی آغوش میں آ جاؤ جس میں آنکھ کھولی ہے

یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ کہتا ہے کہ میں گزری ہوئی باتوں میں کھو جاؤں

تمہاری زلف سے مہکی ہوئی راتوں میں کھو جاؤںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ اب یہ سانس کا ڈورا

اک ایسی دھار کی تلوار ہے جس پر گزرنا ہےمجھے اور زندگی کے زخم کو ٹانکے لگانا ہیں

اسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ

اگر رکھوں تو ناکارہ نکما کہہ کے یہ دنیامجھے ٹھوکر لگا دے اور خود آگے کو بڑھ جائے

مری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھے

جو سب کو اس لیے پیاری ہے کہ کافی پرانی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہے

اسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ

— وسیم بریلوی