5 اشعار

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

Dil muztarib hai aur pareshan jism hai

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہےاس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے

اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرحوہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے

دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگراس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے

میں نے بنا دیا ہے جسے عشق میں غزلدل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے

اب اس کے غم سے مجھ کو ملے گی کہاں نجاتدل پاسباں ہے اور نگہبان جسم ہے

— زیشان ساحل