5 اشعار

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے

Gard-e-safar mein raah ne dekha nahin mujhe

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھےاک عمر مہر و ماہ نے دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہوا کہ خاک نشینوں کے رو بہ رواس شہر کج کلاہ نے دیکھا نہیں مجھے

میں دیکھتا تھا رنگ بدلتی ہوئی نگاہبدلی ہوئی نگاہ نے دیکھا نہیں مجھے

میری صدا وہاں پہ تجھے کیسے ڈھونڈتیتیری جہاں پناہ نے دیکھا نہیں مجھے

ہر موج درد خود میں اتارے چلا گیاساحلؔ دل تباہ نے دیکھا نہیں مجھے

— زیشان ساحل