5 اشعار

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا

Koi qusoor nahin meri khush gumani ka

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کااثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا

کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظخیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا

برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سےکہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا

ہمارے دل کا المناک دور ہے شایدسمجھ رہے ہیں جسے کھیل سب جوانی کا

وہ داستان مکمل کرے تو اچھا ہےمجھے ملا ہے ذرا سا سرا کہانی کا

— زیشان ساحل