8 اشعار

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا

Phoolon ki anjuman mein bahut der tak raha

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہاکوئی مرے چمن میں بہت دیر تک رہا

آیا تھا میرے پاس وہ کچھ دیر کے لیےسورج مگر گہن میں بہت دیر تک رہا

میں روکتا رہا اسے چالاکیوں کے ساتھوہ اپنے بھولے پن میں بہت دیر تک رہا

جو شہ ملی تو دل مرا بیباک ہو گیانیرنگیٔ بدن میں بہت دیر تک رہا

آنکھوں میں آ گیا ہے مری بھی ذرا سا داغپھول اس کے پیرہن میں بہت دیر تک رہا

آیا نہیں ہے کھینچ کے لانا پڑا مجھےدل یار کے وطن میں بہت دیر تک رہا

اس کے بغیر جیسے جہنم ہے زندگیمیں جنت عدن میں بہت دیر تک رہا

دونوں سے ساتھ ساتھ ملاقات ہو گئیکچھ سرو کچھ سمن میں بہت دیر تک رہا

— زیشان ساحل