5 اشعار

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

Main us ki anjuman mein akela nahin gaya

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیاجو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا

میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنالیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا

ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہمجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا

تحویل میں کسی کی پہنچ کے ہے خوش وہ دلجس کو کسی مقام پہ رکھا نہیں گیا

دونوں طرف تھی ایک شکایت لکھی ہوئیچاہا کبھی گیا کبھی چاہا نہیں گیا

— زیشان ساحل