8 اشعار

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں

Yoon boli thi chiriya khaali kamre mein

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میںجیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں

ہر پل میرا رستہ دیکھا کرتا ہےجانے کس کا سایہ خالی کمرے میں

کھڑکی کے رستے سے لایا کرتا ہوںمیں باہر کی دنیا خالی کمرے میں

ہر موسم میں آتے جاتے رہتے ہیںلوگ ہوا اور دریا خالی کمرے میں

چہروں کے جنگل سے لے کر آیا ہوںسرخ گلاب کا پودا خالی کمرے میں

بستی میں ہر رات نکلنے والا چاندعمر ہوئی نہ اترا خالی کمرے میں

تیز ہوا میں سارے کوزے ٹوٹ گئےاور پھیلا اک صحرا خالی کمرے میں

ساحلؔ شہر سے دور اکیلا رہتا ہےجیسے میں ہوں رہتا خالی کمرے میں

— زیشان ساحل