5 اشعار

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

Ghubar dil se nikala nazar ko saaf kiya

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیاپھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا

جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سےوہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا

ہر ایک جرم کی پاتا رہا سزا لیکنہر ایک جرم زمانے کا میں نے معاف کیا

وہ شب گزارنے آئے گا میرے کوچے میںہوائے شام نے دھیرے سے انکشاف کیا

اس انجمن میں میں آیا تھا جن کی مرضی سےانہیں تمہاری نظر سے مرے خلاف کیا

— زیشان ساحل