گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گا
کلام: خورشیدرضوی
گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گاراہ میں لیکن سراب ماہ و سال آ جائے گا
یا شکن آلود ہو جائے گی منظر کی جبیںیا ہماری آنکھ کے شیشے میں بال آ جائے گا
غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی
مہمان شاعر: خورشیدرضوی
گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گاراہ میں لیکن سراب ماہ و سال آ جائے گا
یا شکن آلود ہو جائے گی منظر کی جبیںیا ہماری آنکھ کے شیشے میں بال آ جائے گا