خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھے
کلام: خورشیدرضوی
خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھےاسی جنوں میں اسی ہاؤ ہو میں اچھے تھے
نکل کے آپ سے باہر خراب و خوار ہوئےمدام غرق ہم اپنے لہو میں اچھے تھے
غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی
مہمان شاعر: خورشیدرضوی
خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھےاسی جنوں میں اسی ہاؤ ہو میں اچھے تھے
نکل کے آپ سے باہر خراب و خوار ہوئےمدام غرق ہم اپنے لہو میں اچھے تھے
لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیںحسرتیں ہی حسرتیں ہیں مدعا کوئی نہیں
حرف غم ناپید ہے آنکھوں میں نم ناپید ہےدرد کا سیل رواں ہے راستا کوئی نہیں
رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیاعداوتوں میں ہوئی ہے مفاہمت کیا کیا
مرے عزیز وطن کی فضا نے بھر دی ہےمری سرشت کے اندر منافقت کیا کیا