کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے
کلام: خورشیدرضوی
کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھےکہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے
اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کرترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے
غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی
مہمان شاعر: خورشیدرضوی
کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھےکہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے
اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کرترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے