غزل 6 اشعار

گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گا

Go nazar aksar woh husn-e-la-zawaal aa jaayega

گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گاراہ میں لیکن سراب ماہ و سال آ جائے گا

یا شکن آلود ہو جائے گی منظر کی جبیںیا ہماری آنکھ کے شیشے میں بال آ جائے گا

ریت پر صورت گری کرتی ہے کیا باد جنوبکوئی دم میں موجۂ باد شمال آ جائے گا

دوستو میری طبیعت کا بھروسہ کچھ نہیںہنستے ہنستے آنکھ میں رنگ ملال آ جائے گا

جانے کس دن ہاتھ سے رکھ دوں گا دنیا کی زمامجانے کس دن ترک دنیا کا خیال آ جائے گا

حادثہ یہ ہے کہ ساری ذلتوں کے باوجودرفتہ رفتہ زخم سوئے اندمال آ جائے گا

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں