غزل 5 اشعار

وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے

Woh mujhe khaak se baahar nahin jaane dete

وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتےدست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے

سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حبابزیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے

ہیں مری راہ کا پتھر مری آنکھوں کا حجابزخم باہر کے جو اندر نہیں جانے دیتے

مجھ کو اس گنبد بے در سے پرے کا بھی ہے ذوقیہ مرے بال مرے پر نہیں جانے دیتے

حد افلاک پہ جا کر تو صدا دے آیامگر افلاک سے اوپر نہیں جانے دیتے

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں