غزل 6 اشعار

کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے

Kuch is ada se koi dam-ba-dam lubhaye mujhe

کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھےکہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے

اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کرترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے

ترے نثار کسی ایسے غم گسار کو بھیجکہ دل کی بھول بھلیوں سے ڈھونڈ لائے مجھے

یہ جی میں ہے کہ سراپا وہ نغمہ بن جاؤںکہ جس کو تجھ سے محبت ہو گنگنائے مجھے

کسی کی دھن میں پریشاں تو ہوں بکھر ہی نہ جاؤںگلے نہ موجۂ باد صبا لگائے مجھے

گلوں سے کم نہیں کانٹوں کی سیج بھی خورشیدؔخیال یار اگر چین سے سلائے مجھے

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں