7 اشعار

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

Na kisi ki aankh ka noor hoon na kisi ke dil ka qarar hoon

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

«نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

نہ دواۓ درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میںنہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں

مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیاجو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوںکوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوںجو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیامیں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوںجو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

— مضطر خیرآبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں