افتخار احمد کی آواز میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کلام: مضطر خیرآبادی · محفل: جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی · 2026-05-01
«نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
نہ دواۓ درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میںنہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں