5 اشعار

جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو

Jab aaina koi dekho ik ajnabi dekho

جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو

«جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھوکہاں پہ لائی ہے تم کو یہ زندگی دیکھو

محبتوں میں کہاں اپنے واسطے فرصتجسے بھی چاہے وہ چاہے مری خوشی دیکھو

جو ہو سکے تو زیادہ ہی چاہنا مجھ کوکبھی جو میری محبت میں کچھ کمی دیکھو

جو دور جائے تو غم ہے جو پاس آئے تو دردنہ جانے کیا ہے وہ کمبخت آدمی دیکھو

اجالا تو نہیں کہہ سکتے اس کو ہم لیکنذرا سی کم تو ہوئی ہے یہ تیرگی دیکھو

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں