ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
کلام: علامہ اقبال
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)
مہمان شاعر: علامہ اقبال
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میںحالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں
ہم کون ہیں کیا ہیں باخدا یاد نہیںاپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں