افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کلام: علامہ اقبال
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایساسوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)
مہمان شاعر: علامہ اقبال
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایساسوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ
نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہفقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازیمرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہےیہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی