تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
کلام: علامہ اقبال
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمروہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر
پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبراور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)
مہمان شاعر: علامہ اقبال
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمروہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر
پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبراور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر
وہ میرا رونق محفل کہاں ہےمری بجلی مرا حاصل کہاں ہے
مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں میںخدا جانے مقام دل کہاں ہے
ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہےبتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے
سمندر سے مِلے پیاسے کو شبنمبخِیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بنداب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی