سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
باغی مرید
ہم کو تو ميسر نہيں مٹي کا ديا بھي گھر پير کا بجلي کے چراغوں سے ہے روشن شہري ہو، دہاتي ہو، مسلمان ہے سادہ مانند بتاں پجتے ہيں کعبے کے برہمن نذرانہ نہيں ، سود ہے پيران حرم کا ہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن ميراث ميں آئي ہے انھيں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف ميں عقابوں کے نشيمن!
امامت
تو نے پوچھي ہے امامت کي حقيقت مجھ سے حق تجھے ميري طرح صاحب اسرار کرے ہے وہي تيرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے موت کے آئنے ميں تجھ کو دکھا کر رخ دوست زندگي تيرے ليے اور بھي دشوار کرے دے کے احساس زياں تيرا لہو گرما دے فقر کي سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے