4 اشعار

باغی مرید

باغی مرید

باغی مرید

«باغی مرید» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھیگھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہمانند بتاں پجتے ہیں کعبے کے برہمن

نذرانہ نہیں ، سود ہے پیران حرم کاہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن

میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشادزاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن!

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں