7 اشعار

بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے

Be-fikr ji raha hoon har ek aitbaar se

بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے

«بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سےنسبت بھی کیسی چیز ہے داماں یار سے

دامن رفو کروں کہ گریباں رفو کروںجوش جنوں میں کس کو سیؤں کس کے تار سے

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہےہو رابطہ جبیں کو جہاں پائے یار سے

دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم پیر ہو گئےخم ہو گئی کمر جو گناہوں کے بار سے

اے بندۂ خدا ترا ماحول کچھ بھی ہومایوس کیوں ہے رحمت پروردگار سے

اپنی خوشی سے ترک تمنا بھی کیا کروںٹکراؤ چاہتا نہیں منشائے یار سے

کاملؔ سکون موت ہے کیوں موت مانگیےاپنی اپنا زندگی ہے دل بے قرار سے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں