7 اشعار

غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں

Ghamza-e-husn ki qasam tera karam kahan nahin

غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں

«غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیںدیدۂ تر بتائے گا دل کو اگر زباں نہیں

ایک دلیل عشق ہے آہ نہیں فغاں نہیںاس کے سوا تو اور کچھ وہم نہیں گماں نہیں

عشق نے جب سمیٹ لیں حسن کی سب تجلیاںاس کی ہر ایک داستاں کیا میری داستاں نہیں

محو جمال یار ہوں حسن یار ہوںنقش کمال یار ہوں ہستیٔ رائگاں نہیں

کام چلے تو کیا چلے شاہد و بادہ کے بغیررند ہی رند ہیں یہاں مجمع قدسیاں نہیں

فضل کی بات اور ہے ورنہ ہیں خوش خیالیاںراہ نورد شوق اگر تیرے قدم جواں نہیں

کاملؔ خستہ جاں ترا بندۂ ناتوں ترالائق رحم ہے شہا قابل امتحاں نہیں

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں