دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی
کلام: اسماعیل راز
دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتیاب تو تجھ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی
ظلم اتنے کیے اس نے کہ وہ اب قدموں میںسر بھی رکھ دے تو مروت نہیں کی جا سکتی
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز
مہمان شاعر: اسماعیل راز
دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتیاب تو تجھ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی
ظلم اتنے کیے اس نے کہ وہ اب قدموں میںسر بھی رکھ دے تو مروت نہیں کی جا سکتی