پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے
کلام: اسماعیل راز
پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہےشراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے
میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئےمکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز
مہمان شاعر: اسماعیل راز
پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہےشراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے
میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئےمکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے