پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے
کلام: اسماعیل راز
پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئےہم خواہشوں کے ملبے میں دب کر مرے ہوئے
اے شخص تو نے غور سے دیکھا نہیں ہمیںہم لوگ تو وہی ہیں ترے رد کرے ہوئے
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز
مہمان شاعر: اسماعیل راز
پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئےہم خواہشوں کے ملبے میں دب کر مرے ہوئے
اے شخص تو نے غور سے دیکھا نہیں ہمیںہم لوگ تو وہی ہیں ترے رد کرے ہوئے