ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا
کلام: اسماعیل راز
ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھاپر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا
دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسریعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز
مہمان شاعر: اسماعیل راز
ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھاپر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا
دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسریعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا