5 اشعار

دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی

Door dil se mere wahshat nahin ki ja sakti

دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتیاب تو تجھ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی

ظلم اتنے کیے اس نے کہ وہ اب قدموں میںسر بھی رکھ دے تو مروت نہیں کی جا سکتی

پاس رہنا ہی تقاضائے محبت تو نہیںاتنی سی بات پہ نفرت نہیں کی جا سکتی

جستجو میں تری میں جان بکف پھرتا ہوںعشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی

ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نےاب کسی بات پہ حیرت نہیں کی جا سکتی

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں