5 اشعار

ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا

Hijrat ka iraada to hamara bhi nahin tha

ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھاپر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا

دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسریعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا

اس وقت کے صدموں نے مجھے چاٹ لیا ہےجو وقت ابھی میں نے گزارا بھی نہیں تھا

کیا دن تھے کہ غم ہو کہ خوشی دوست کہ دشمنجو تیرا نہیں تھا وہ ہمارا بھی نہیں تھا

اس شخص نے زندہ بھی نہیں چھوڑا تھا مجھ کوحالانکہ مجھے جان سے مارا بھی نہیں تھا

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں