7 اشعار

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں

Masroor bhi hoon khush bhi hoon lekin khushi nahin

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں

«مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیںتیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں

میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روحکمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں

لا غم ہی ڈال دے مرے دست سوال میںمیں کیا کروں خوشی کو جو تیری خوشی نہیں

کچھ دیر اور رہنے دے خودداری جنوںدامن تو چاک ہونا ہے لیکن ابھی نہیں

ساقی نگاہ ناز سے للہ کام لےسو جام پی چکا ہوں مگر بے خودی نہیں

رکھنا پڑے گی تم کو تہی دامنی کی لاجمجھ کو کمی ضرور ہے تم کو کمی نہیں

بہزادؔ صاف صاف میں کہتا ہوں حال دلشرمندۂ کمال مری شاعری نہیں

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں