محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے
کلام: بہزاد لکھنوی
محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہےخلش دل میں جہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے
ترے جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہےنظر بھی ایک موج تہ نشیں معلوم ہوتی ہے
یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی
مہمان شاعر: بہزاد لکھنوی
محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہےخلش دل میں جہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے
ترے جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہےنظر بھی ایک موج تہ نشیں معلوم ہوتی ہے
تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائےیہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے
اللہ ری بے نقابی اس جان مدعا کیمیری نگاہ حسرت حیران ہو نہ جائے